پھر امام ترمذی فرماتے ہیں۔

1082#  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شادی زندگی گزارنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ 

ا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ”چار باتیں انبیاء و رسل کی سنت میں سے ہیں: حیاء کرنا، عطر لگانا، مسواک کرنا اور نکاح کرنا“ ۱؎۔


پھر امام ترمذی فرماتے ہیں۔

 ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم نوجوان تھے، ہمارے پاس  ( شادی وغیرہ امور میں سے )  کسی چیز کی مقدرت نہ تھی۔ تو 

آپ نے فرمایا:

 ”اے نوجوانوں کی جماعت! تمہارے اوپر ۱؎ نکاح لازم ہے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی کرنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اور جو تم میں سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس پر صوم کا اہتمام ضروری ہے، کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے“۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ”جب تمہیں کوئی ایسا شخص شادی کا پیغام دے، جس کی دین داری اور اخلاق سے تمہیں اطمینان ہو تو اس سے شادی کر دو۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد عظیم برپا ہو گا“۔ 

امام ترمذی کہتے ہیں:


 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شادی کرنے پر جب کسی کو مبارک باد دیتے تو فرماتے:

 ”اللہ تجھے برکت عطا کرے، اور تجھ پر برکت نازل فرمائے اور تم دونوں کو خیر پر جمع کرے“۔ 

امام ترمذی کہتے ہیں:


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ”اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے یعنی اس سے صحبت کرنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے:

 بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا 

”اللہ کے نام سے، اے اللہ! تو ہمیں شیطان سے محفوظ

 رکھ اور اسے بھی شیطان سے محفوظ رکھ جو تو ہمیں عطا کرے یعنی ہماری اولاد کو

“، تو اگر اللہ نے ان کے درمیان اولاد دینے کا فیصلہ کیا ہو گا تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا“۔ 

امام ترمذی کہتے ہیں: